راکب مختار
Rakib Mukhtar
پیدائش: 22 Jan 1987
راکب مختار — مختصر تعارف
راکب مختار اردو کے معاصر شاعر ہیں۔ دستیاب ادبی معلومات کے مطابق ان کا اصل نام عابد حسین ہے اور وہ شورکوٹ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ادبی حوالوں میں ان کی پیدائش کا سال 1987 درج ہے۔
ان کی شاعری میں محبت، اداسی، انسانی جذبات، زندگی کے تجربات اور صوفیانہ فکر نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی غزلوں میں سادہ مگر گہری زبان، داخلی کیفیت اور فکری انداز خاص طور پر محسوس ہوتا ہے۔ ان کی معروف غزلوں میں "حکمِ مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے" اور "میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے" شامل ہیں۔
راکب مختار مشاعروں میں بھی کلام پیش کرتے رہے ہیں اور 2024 میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے صوفیانہ مشاعرے میں بھی ان کی شرکت اور شاعری ریکارڈ ہوئی۔
تخلص: راکبؔ
اصل نام: عابد حسین
پیدائش: 1987
جائے پیدائش: شورکوٹ، پنجاب، پاکستان
صنف: غزل، اردو شاعری
راکب مختار اردو کے معاصر شاعر ہیں۔ دستیاب ادبی معلومات کے مطابق ان کا اصل نام عابد حسین ہے اور وہ شورکوٹ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ادبی حوالوں میں ان کی پیدائش کا سال 1987 درج ہے۔
ان کی شاعری میں محبت، اداسی، انسانی جذبات، زندگی کے تجربات اور صوفیانہ فکر نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی غزلوں میں سادہ مگر گہری زبان، داخلی کیفیت اور فکری انداز خاص طور پر محسوس ہوتا ہے۔ ان کی معروف غزلوں میں "حکمِ مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے" اور "میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے" شامل ہیں۔
راکب مختار مشاعروں میں بھی کلام پیش کرتے رہے ہیں اور 2024 میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے صوفیانہ مشاعرے میں بھی ان کی شرکت اور شاعری ریکارڈ ہوئی۔
تخلص: راکبؔ
اصل نام: عابد حسین
پیدائش: 1987
جائے پیدائش: شورکوٹ، پنجاب، پاکستان
صنف: غزل، اردو شاعری
29
کل شاعری
3
رباعی
11
شعر
15
غزل
غزل
شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے
شب کے پچھلے پہر شہر کے راستے میری آوارگی سے سنورتے رہے
صبح تک نیند کے بے نوا قافلے سرخ آنکھوں سے ٹکرا کے مرتے رہے
معذرت دوستا کوششیں تو یہی تھیں کہ تجھ کو مکمل ملیں گے مگر
ہر جگہ تو ہمیں یاد آیا سو ہم ہر جگہ تھوڑے تھوڑے بکھرتے رہے
مکمل پڑھیں
صبح تک نیند کے بے نوا قافلے سرخ آنکھوں سے ٹکرا کے مرتے رہے
معذرت دوستا کوششیں تو یہی تھیں کہ تجھ کو مکمل ملیں گے مگر
ہر جگہ تو ہمیں یاد آیا سو ہم ہر جگہ تھوڑے تھوڑے بکھرتے رہے
غزل
ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا
ہوا نے آ کے مجھے مژدہ ء رہائی دیا
قفس کو کھولنے والا نہیں دکھائی دیا
میں روشنی کے خدوخال دیکھ آیا ہوں
وہ سامنے تھا مگر چار سو دکھائی دیا
مکمل پڑھیں
قفس کو کھولنے والا نہیں دکھائی دیا
میں روشنی کے خدوخال دیکھ آیا ہوں
وہ سامنے تھا مگر چار سو دکھائی دیا
غزل
ولا کے باغ میں کھلتے ہوئے گل تر نے
ولا کے باغ میں کھلتے ہوئے گل تر نے
یزیدیت کی رگیں کاٹ دی ہیں اصغر نے
نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی
نبی کے بوسے بھی کاٹے ہیں تیرے خنجر نے
مکمل پڑھیں
یزیدیت کی رگیں کاٹ دی ہیں اصغر نے
نہیں نہیں وہ فقط گردن حسین نہ تھی
نبی کے بوسے بھی کاٹے ہیں تیرے خنجر نے
غزل
درون ٍ قلب کہیں دشت ٍ کربلا کوئی ہے
درون ٍ قلب کہیں دشت ٍ کربلا کوئی ہے
جو اپنی آنکھوں میں اشکوں کا سلسلہ کوئی ہے
امام سجدے میں تھے اور سارے نبیوں سے
خدا نے فخر سے پوچھا حسین سا کوئی ہے
مکمل پڑھیں
جو اپنی آنکھوں میں اشکوں کا سلسلہ کوئی ہے
امام سجدے میں تھے اور سارے نبیوں سے
خدا نے فخر سے پوچھا حسین سا کوئی ہے
غزل
سبزہ اگے نہ پھول کھلیں کچھ نیا نہ ہو
سبزہ اگے نہ پھول کھلیں کچھ نیا نہ ہو
اللہ کی زمیں پہ اگر کربلا نہ ہو
غازی سا باوفا ہو اگر سب کا پیشوا
دعوے سے کہہ رہا ہوں کوئ بے وفا نہ ہو
مکمل پڑھیں
اللہ کی زمیں پہ اگر کربلا نہ ہو
غازی سا باوفا ہو اگر سب کا پیشوا
دعوے سے کہہ رہا ہوں کوئ بے وفا نہ ہو
غزل
ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
ہم ہیں وہ لوگ جو آنکھیں بھی نہیں کھو سکتے
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
روتے رہتے ہیں عزادار نہیں سو سکتے
مکمل پڑھیں
یا حسین ع آپ کے اکبر ع کو نہیں رو سکتے
دکھ ہی ایسا ہے کہ عاشور کی شب گلیوں میں
روتے رہتے ہیں عزادار نہیں سو سکتے
غزل
یہ خواہش ہے تحمل سے پڑھوں نہج البلاغہ کو
یہ خواہش ہے تحمل سے پڑھوں نہج البلاغہ کو
مری مٹھی میں آئیں دو جہاں آہستہ آہستہ
علی کے نام پر لہجے کی تیزی مت دکھا ورنہ
لہو بن جائے گی منہ میں زباں آہستہ آہستہ
مکمل پڑھیں
مری مٹھی میں آئیں دو جہاں آہستہ آہستہ
علی کے نام پر لہجے کی تیزی مت دکھا ورنہ
لہو بن جائے گی منہ میں زباں آہستہ آہستہ
غزل
خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے
خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے
بس دل پہ ایک راج کماری کا راج ہے
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
ویسے منافقت کا مرض کا علاج ہے
مکمل پڑھیں
بس دل پہ ایک راج کماری کا راج ہے
اے دوست احتیاط برت صرف احتیاط
ویسے منافقت کا مرض کا علاج ہے
غزل
تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا
تیرا کیا ہے دیکھنے کا جب بہانہ بن گیا
دھڑکنوں سے مالا مال اک دل نشانہ بن گیا
میرے بچے لفظ کی خیرات سے پلنے لگے
شاعری تو میرے گھر کا آب و دانہ بن گیا
مکمل پڑھیں
دھڑکنوں سے مالا مال اک دل نشانہ بن گیا
میرے بچے لفظ کی خیرات سے پلنے لگے
شاعری تو میرے گھر کا آب و دانہ بن گیا
غزل
بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں
بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں
جو تو نے صرف کیا ہے دیا بجھانے میں
خدا کرے کہ مرے کوزہ گر کو علم نہ ہو
جو لطف آتا ہے بنتے ہی ٹوٹ جانے میں
مکمل پڑھیں
جو تو نے صرف کیا ہے دیا بجھانے میں
خدا کرے کہ مرے کوزہ گر کو علم نہ ہو
جو لطف آتا ہے بنتے ہی ٹوٹ جانے میں
غزل
سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی
سفر کے نقشے میں چٹئیل زمیں بنائی گئی
کہ اس میں ایک بھی جھاڑی نہیں بنائی گئی
یہ سرحدیں تو بہت بعد میں بنیں پہلے
دلوں کی طرح کشادہ زمیں بنائی گئی
مکمل پڑھیں
کہ اس میں ایک بھی جھاڑی نہیں بنائی گئی
یہ سرحدیں تو بہت بعد میں بنیں پہلے
دلوں کی طرح کشادہ زمیں بنائی گئی
غزل
چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی
چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی
تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ
کٹے شجر پہ پرندوں نے آہ و زاری کی
مکمل پڑھیں
چکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی
تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھ
کٹے شجر پہ پرندوں نے آہ و زاری کی
غزل
عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں
یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی
جو کی ہے ماں نے تو پھر بد دعا سے مر جائیں
مکمل پڑھیں
مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں
یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگی
جو کی ہے ماں نے تو پھر بد دعا سے مر جائیں
غزل
میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
میں کھو گیا تھا کوئی شے تلاش کرتے ہوئے
پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے
پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی
حسین خواب کے ریشے تلاش کرتے ہوئے
مکمل پڑھیں
پرائے شہر میں اپنے تلاش کرتے ہوئے
پھر ایک صبح مجھے آنکھ پھوڑنا پڑی تھی
حسین خواب کے ریشے تلاش کرتے ہوئے
غزل
حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے
حکم مرشد پہ ہی جی اٹھنا ہے مر جانا ہے
عشق جس سمت بھی لے جائے ادھر جانا ہے
میری بینائی ترے قرب کی مرہون ہے دوست
ہاتھ چھڑوا کے بھلا تجھ سے کدھر جانا ہے
مکمل پڑھیں
عشق جس سمت بھی لے جائے ادھر جانا ہے
میری بینائی ترے قرب کی مرہون ہے دوست
ہاتھ چھڑوا کے بھلا تجھ سے کدھر جانا ہے